LOADING

Type to search

مکہ مکرمہ کی چند اہم اور تاریخی مساجد

Share

مکہ مکرمہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی نظر میں مقدس شہر ہے، مسجد حرام، خانۂ کعبہ، صفا اور مروہ اور دیگر تاریخی مقامات کی موجودگی کی وجہ سے یہ شہر تمام مسلمانوں کے لئے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، یہ اس لئے بھی ساری دنیا کے مسلمانوں کومحبوب ہے کہ اسی شہر میں پیارے نبی ﷺ کی پرورش و پرداخت ہوئی اور یہیں آپ ﷺ کو نبوت سے بھی سرفراز کیا گیا۔

مکہ مکرمہ میں مسجد حرام کے علاوہ چند ایسی مساجد ہیں جن کو تاریخی طور پر ایک مقام حاصل ہے، ان مساجد کی تفصیل نیچے کے سطور میں پیش ہے تاکہ آپ جب عمرہ پر جائیں یا مکہ مکرمہ میں کچھ پل گزارنے کا موقع ملے تو آپ ان مساجد میں بھی نماز ادا کر سکیں اور ان کی تاریخی حیثیت سے اپنے آپ کو آگاہ کرسکیں۔

مسجد البیعہ

مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے قبل وادی منیٰ میں پیارے نبی ﷺ اور مدینہ کے قبائل اوس اور خزرج اور یہود کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پایا۔ یہ معاہدہ اسی مقام پر لکھا گیا جہاں یادگار کے طور پر بعد میں مسجد البیعہ تعمیر کی گئی۔

آج سے چودہ سو سال قبل اوس اور خزرج کے قبائلی عمائدین سیکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرکے وادی منیٰ پہنچے اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ تاریخی معاہدہ کیا جسے اسلامی تاریخ کا ایک سنہری باب کہا جا سکتا ہے۔ تاریخ میں اسے “بیعت عقبہ اولیٰ” بھی کہا جاتا ہے۔

بیعت کے بعد اوس اور خزرج کے سرداروں نے مشترکہ طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ آنے کی دعوت دی۔ آپ ﷺ اس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے جہاں ان دونوں قبائل کے لوگوں نے آپ کا استقبال کیا۔

عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور نے 144 ہجری بمطابق 761 عیسوی میں اس مسجد کی تعمیر کروائی۔ یہ ‘جمرات’ نامی پل سے ٹھیک تین سو میٹر دوری پر وادی منیٰ میں واقع ہے اور اس کی چھت کھلی ہوئی ہے۔ آج بھی اس مسجد کی زیارت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی پرانی بناوٹ برقرار ہے۔

مسجد جعرانہ

مسجد جعرانہ مکہ مکرمہ سے 26 کلو میٹر دور طائف کے راستے میں واقع ایک اہم تاریخی مسجد ہے۔ جنگ حنین سے واپس لوٹتے ہوئے آپ ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام کے ساتھ یہاں قیام کیا اور جو مال غنیمت ہاتھ آیا تھا اسے تقسیم کیا، اسی وجہ سے اس مسجد کو مسجد حنین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آپ ﷺ نے ایک مرتبہ عمرے کے موقع سے اسی مسجد سے احرام باندھا تھا، اسی لئے اہل مکہ کے لئے یہ میقات ہے، پاکستان سمیت دنیا بھر سے آنے والے معتمرین ایک مرتبہ حدود مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کرنے کے بعد اگر دوبارہ عمرہ کرنا چاہیں تو ان کے پاس احرام باندھنے کے لئے دو آسان اختیار ہوتے ہیں، یا تو وہ مسجد عائشہ سے احرام باندھ لیں جو بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہے یا پھر وہ مسجد جعرانہ سے احرام باندھ لیں جہاں سے نبی کریم ﷺ نے احرام باندھا تھا۔

تیسری صدی کے آغاز میں اس مسجد کی تعمیر کی گئی تھی، مختلف ادوار میں اس کی توسیع پر کام ہوتا رہا۔ ایک اطلاع کے مطابق آج کے دور میں اس کا رقبہ 1000 مربع کلومیٹر ہے۔ اس مسجد کی بناوٹ نہایت دلکش ہے جس کا نظارہ دیکھتے ہی بنتا ہے۔

مسجد حدیبیہ

یہ مسجد جس علاقے میں تعمیر کی گئی ہے اس کا نام الحدیبیہ ہے، اسی کی طرف منسوب کرکے اس مسجد کا نام مسجد حدیبیہ رکھا گیا ہے۔ اس کی ایک تاریخی حیثیت ہے اور وہ یہ ہے کہ اسی جگہ ایک درخت کے نیچے پیارے نبی ﷺ نے صحابۂ کرام سے بیعت لیا تھا، اس بیعت کو بیعت الرضوان کہتے ہیں اور وہ درخت شجرۃ الرضوان کہلاتا ہے۔ قرآن کریم میں بھی اس واقعے کی طرف اشارہ ہے۔

ہجرت کے چھٹے سال، پیارے نبی ﷺ اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ فریضۂ حج ادا کرنے کے لئے تشریف لے جا رہے تھے کہ آپ کو یہ خبر پہونچی کہ قریش مسلمانوں کو حج ادا کرنے نہیں دیں گے، پیارے نبی ﷺ نے حضرت عثمان کو سفیر بنا کر بھیجا کہ وہ قریش سے بات چیت کریں اور مسلمانوں کو حج ادا کرنے دیں، جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو آنے میں تاخیر ہوئی اور ایسا لگا کہ قریش نے ان کو شہید کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ سے بیعت لی کہ جب تک ان کے خون کا بدلہ نہیں لیں گے تب تک اس جگہ سے واپس نہیں جائیں گے۔ اسی بیعت کے سلسلے کو بیعت الرضوان کہتے ہیں اور اسی جگہ بعد میں جو مسجد بنائی گئی اسے مسجد حدیبیہ کا نام دیا گیا۔

مسجد مشعر الحرام

مسجد مشعر الحرام مزدلفہ میں واقع ہے، حجاج کرام 9 ذی الحجہ کو غروب آفتاب کے بعد میدان عرفات سے نکل کر مزدلفہ کی طرف جاتے ہیں، وہاں وہ اللہ کی یاد اور عبادت میں رات گزارتے ہیں، قرآن کریم میں اس جگہ کو مشعر حرام کے نام سے یاد کیا گیا ہے:

‘فَإِذَآ أَفَضۡتُم مِّنۡ عَرَفَٰتٖ فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ عِندَ ٱلۡمَشۡعَرِ ٱلۡحَرَامِۖ وَٱذۡكُرُوهُ كَمَا هَدَىٰكُمۡ وَإِن كُنتُم مِّن قَبۡلِهِۦ لَمِنَ ٱلضَّآلِّينَ’

آیت کا مفہوم ہے ‘جب تم عرفات سے واپس ہونے لگوتومشعرالحرام(یعنی مزدلفہ)میں اللہ کا ذکر کرواور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں دی ہے ورنہ اس سے پہلے تو تم لوگ گمراہ تھے۔’

مسجد کا نام اسی مقام کی طرف منسوب کر کے مشعر حرام رکھا گیا ہے اور اس کی تعمیر اسلام کے ابتدائی زمانے میں ہی ہوگئی تھی، ابتدا میں یہ مسجد چوکور شکل کے ساتھ نہایت معمولی ساخت کی بنی ہوئی تھی۔

آل سعود حکمرانوں کے دور میں مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا گیا اور اس کی توسیع کر کے اس کا رقبہ 5040 مربع کلو میٹر تک بڑھا دیا گیا جس میں اب بآسانی 12000 نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں۔

موجودہ حکومت نے مسجد کی چھت کے چاروں طرف خوبصورت کھڑکیاں اور بالکونی لگوائی ہے، لائٹس کا بہترین انتظام کیا ہے اور مسجد کو نہایت ہی دلکش انداز میں مزین کیا ہے۔

مسجد الخیف

مسجد الخیف منیٰ میں واقع ہے، پیارے نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق اس مسجد میں 70 نبیوں نے نمازیں ادا کیں، یہ سب کے سب مختلف سواریوں پر آئے تھے، ایک روایت کے مطابق 75 نبیوں نے حج کیا، ان سب نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور منیٰ میں موجود مسجد الخیف میں نماز ادا کی۔

یہی وہ مسجد ہے جہاں حجاج کرام منیٰ میں قیام کے دوران نماز پڑھتے ہیں، اس مسجد کا رقبہ 25000 مربع کلو میٹر میں پھیلا ہوا ہے اور بیک وقت 45000 حجاج کرام کے لئے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے، حجاج کرام کے لئے طہارت خانوں اور وضو کرنے کا بہترین اور وافر انتظام حکومت نے کیا ہوا ہے، مسجد کا موسم خوشگوار رکھنے لئے 410 اے سی لگائے گئے ہیں، علاوہ ازیں 10100 ہائی سپیڈ پنکھے بھی لگائے گئے ہیں۔ مسجد میں خطبہ اور درس کی آواز ایک ایک گوشے تک پہنچانے کے لئے جدید ترین صوتی نظام کا استعمال کیا گیا ہے، 600 سرچ لائٹوں سے مسجد کو روشن کیا گیا ہے۔

حج کے زمانے میں مسجد الخیف میں مسلسل درس ہوتے رہتے ہیں، یہ دروس عربی زبان کے علاوہ اردو، انگریزی اور دنیا کی اہم زبانوں میں دیے جاتے ہیں۔ حج کے زمانے اس مسجد میں بہت چہل پہل رہتی ہے اور رونق لگی رہتی ہے۔

مزید پڑھیے حضرت محمد ﷺ کے شہر، مدینہ منورہ کی فضیلت

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *