LOADING

Type to search

مکہ مکرمہ سے متعلق دلچسپ حقائق

Share

مکہ مکرمہ کرۂ ارض پر سب سے مقدس جگہ ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا سب سے پسندیدہ شہر ہے، یقینا ہمیں مکہ مکرمہ کی تاریخ اور مقام سے متعلق بہت کچھ معلوم ہے لیکن کچھ ایسے دلچسپ حقائق ہیں جن کا علم عام طور پر کم ہی لوگوں کو ہوتا ہے، آئیے ان دلچسپ حقائق کو مل کر جانتے ہیں۔

مکہ مکرمہ دنیا کا سب سے قدیم آباد شہر ہے

کیونکہ زم زم کا کنواں جو اس شہر میں موجود ہے اس کے بارے میں ایسا مانا جاتا ہے کہ وہ 4,000 سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔

حجر اسود ہمیشہ حرم شریف میں نہیں رہا

930 عیسوی میں اسے ”قرامطہ“ نے اسے چوری کر لیا تھا اور اپنے ساتھ مشرقی عرب کے علاقے میں لے گئے تھے۔ تقریبا 22 سال حجر اسود کعبہ شریف کی دیوار سے جدا رہا۔

مکہ مکرمہ کے کچھ علاقے ایسے ہیں جو حدود حرم میں نہیں آتے ہیں

مکہ شہر کے کنارے میں کچھ ایسے علاقے ہیں جیسے الشرائع وغیرہ جو حدود حرم سے باہر ہیں۔

مکہ مکرمہ

مکہ مکرمہ کبھی کسی اسلامی سلطنت کا دار الحکومت نہیں رہا

ہاں البتہ یہ بات ضرور ہے کہ مسلم حکمرانوں نے باقاعدگی سے شہر کی دیکھ بھال حصہ لیا

مسجد الحرام مکہ مکرمہ شہر کے بالکل بیچ میں واقع ہے اور جس جگہ مسجد الحرام واقع ہے وہ تھوڑا نیچا ہے

یہی وجہ ہے کہ ماضی میں کئی بار یہ دیکھا گیا کہ سیلاب کا پانی مسجد الحرام میں جمع ہو گیا تھا۔

مدینہ منورہ کو پیارے نبی ﷺ کا شہر کہا جاتا ہے جبکہ آپ ﷺ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مکہ مکرمہ میں گزارا

آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے پچاس سال مکہ میں گزارے۔

مشہور برطانوی اخبار ‘ٹیلی گراف’ کے مطابق مسجد حرام دنیا کی سب سے مہنگی عمارت ہے

اس کی کل تعمیراتی لاگت 100 بلین امریکی ڈالر ہے۔

مکہ مکرمہ میں دنیا کا سب سے بلند ترین ایسا کمرہ ہے جسے نماز پڑھنے کے لئے مختص کردیا گیا ہے

سمندر کی سطح سے 600 میٹر اونچائی پر واقع یہ چھوٹا سا کمرہ جسے نماز پڑھنے کے لئے مختص کردیا گیا ہے، مکہ کلاک رائل ٹاور ہوٹل کا حصہ ہے۔ اس کمرہ میں صرف 6 افراد ہی نماز ادا کر سکتے ہیں۔

خانۂ کعبہ میں دو دروازے ہوا کرتے تھے

ایک دروازہ خانۂ کعبہ میں داخل ہونے کے لئے تھا اور دوسرا باہر نکلنے کے لئے، کعبہ شریف میں ایک کھڑکی بھی ہوا کرتی تھی، جبکہ موجودہ دور میں صرف ایک دروازہ ہے اور کوئی کھڑکی نہیں ہے۔

کعبہ شریف پر مختلف رنگ کا غلاف ہوا کرتا تھا

ہم یہ دیکھتے آئے ہیں کہ خانۂ کعبہ کالے غلاف سے مزین ہوتا ہے جس پر سونے کے تاروں کا کام کیا ہوتا ہے، لیکن کئی سال پہلے خانۂ کعبہ پر متعدد رنگ کے غلاف لگا کرتے تھے اس میں سے ایک رنگ سرخ بھی تھا۔

مکہ مکرمہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں دنیا بھر کے مسلمانان کرام اکٹھا ہوتے ہیں، اور رنگ و نسل، امیری و غریبی اور عربی و عجمی کے بھید بھاو سے اوپر اٹھ کر سب ایک ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالی کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ پاک اس شہر کو سلامت رکھے، آمین۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Up