LOADING

Type to search

حضرت محمد ﷺ کے شہر، مدینہ منورہ کی فضیلت

Share

مدینہ منورہ دنیا کی وہ مقدس سرزمین ہے جس کی بے شمار فضیلتیں حدیث نبوی میں موجود ہے، یہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ شہر جس کی زیارت کے لئے پوری دنیا سے مسلمان تشریف لاتے ہیں۔ یہ شہر ان کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جس نے ہمارے نبی پاک محمد مصطفی ﷺ کا استقبال کیا. جہاں سے اسلام کی کرنیں پھوٹی اور دنیا کو روشنی ملی۔

مدینہ منورہ کا جغرافیائی بیان اور اس اعتبار سے اس کی فضیلت

شہر مدینہ حجاز پہاڑوں کے مشرق میں واقع ہے جوجبل السراوت کا حصہ ہے۔ اور یمن سے اردن تک 2000 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے ۔ اور حجاز بحیرہ احمر کے قریب واقع ہے۔ یہ خطہ گہرے رنگ کی ریت کی وجہ سے مشہور ہے۔ حجاز  سروات کے پہاڑی سلسلہ پر مشتمل ہے جو نجد کو تہاما سے علیحدہ کرتا ہے۔ یہ ایک آتش فشاں پہاڑی علاقہ ہے۔

یہ شہر دو اطراف سے حرہ کے دو سلسلوں کے بیچ میں واقع  ہے حرہ مشرق  جو “حرۂ واقم” کہلاتا ہے اور دوسرا حرہ مغرب  جس کو “حرہ و برہ” کہا جاتا ہے۔

احد پہاڑ مدینہ کے مشہور پہاڑوں میں سے ایک ہے جو شہر کے شمال میں مسجد نبوی سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے چونکہ یہ واحد پہاڑ  جو مدینہ کے دوسرے پہاڑوں سے جدا ہے اسی وجہ سے اس کو “اُحُد” کہا جاتا ہے. صدر اول میں حق و باطل کا دوسرا معرکہ یہیں رونما ہوا تھا جو غزوہ احد یا جنگ احد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

شہر مدینہ تین وادیوں کے سنگم کی بلندی پر واقع ہے جسے العقل ، العقیق ، اور الہمد کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یہ تین وادیاں خشک پہاڑیوں کے بیچ  سبز علاقوں کو پانی فراہم کرتی ہیں

مدینہ منورہ کی تاریخی اہمیت

شہر مدینہ میں بہت سے  تاریخی اور سیاسی واقعات رونما ہوئے جو قابل ذکر ہیں۔

ابتداء اسلام میں کچھ اہم لڑائیاں پیش آئیں جس کے ذریعہ مذہب اسلام کو تقویت ملی. جیسے غزوۂ بدر، غزوۂٔ احد اور غزوۂ خندق ہے. غزوۂ خندق اس وقت ہوا جب ابو سفیان بن حرب نے مکہ مکرمہ کی افواج کی مدد سے مدینہ منورہ کا محاصرہ کیا ۔ پھر مدینہ کے لوگوں نے شہر کی مزید حفاظت کے لئے ایک خندق کھودی، اس واقعہ کو جنگ خندق کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ طویل محاصرے اور مختلف جھڑپوں کے بعد، مکہ والے پیچھے ہٹ گئے اور اہل مدینہ فتح یاب ہو گئے۔

مدینہ منورہ کی فضیلت احادیث کی روشنی میں

مدینہ منورہ مسلمانوں کے لئے دوسرا مقدس شہرہے۔ دنیا کا ہر مسلمان اس بات کی خواہش کرتا ہے کہ وہ شہرنبی کی زیارت کرے اور مسجد نبوی میں نماز ادا کرے۔ حدیث میں مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت یہ بیان کی گئی کہ مسجد نبوی میں ادا کی جانے والی نماز دیگر مساجد کے مقابلہ میں ہزار گنا زیادہ بہتر اور اجر و ثواب کی حامل ہے۔
مسجد کے احاطے میں نبی پاک ﷺ کی قبر مبارک بھی ہے۔ مسجد نبوی کے توسیع کے بعد قبر مبارک کو مسجد میں شامل کر لیا گیا ہے۔

ذیل میں چند احادیث پیش ہیں جس سے مدینہ منورہ کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے۔

حضورصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ’’مدینہ کی تکلیف و شدت پر میری امت میں سے جو کوئی صبر کریگا قیامت کے دن میں اس کا شفیع رہوںگا‘‘۔(مسلم وترمذی)

حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں لوگ جب شروع شروع کے پھل لے کر حاضر ہوتے تو آ پ اس کو لے کر فرماتے ’’الٰہی! تو ہمارے لئے ہمارے کھجوروں میں برکت دے اور ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں برکت دے‘ ہمارے صاع و مد میں برکت فرما۔ یااللہ ! بیشک ابراھیم علیہ السلام تیرے بندے اور تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے اور بیشک میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں انہوں نے مکہ کے لئے تجھ سے دعاء کی اور میں مدینہ کیلئے تجھ سے (خیر و برکت کی) دعا کرتا ہوں کہ انھیں بھی مکہ والوں جیسی برکت (عطا) فرما اور مکہ والوں کو جہاں ایک برکت دی تو مدینہ والوں کو اسکے برابر دو دو برکتیں عطافرما‘‘۔(مسلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا یا اللہ ! تو مدینہ کو ہمارا ایسا محبوب بنادے جیسے ہم کو مکہ محبوب ہے بلکہ اس سے زیادہ اور اسکی آب و ہوا کو ہمارے لئے درست فرمادے۔ اسکے صاع و مد میں برکت عطا فرما اور یہاں کے بخار کو حجفہ میں منتقل کرکے بھیج دے۔ (مسلم)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے ایک ایسی بستی کی طرف (ہجرت) کا حکم ہوا جو تمام بستیوں کو کھا جائیگی (سب پر غالب آئیگی)۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں اور وہ بستی مدینہ ہے جو لوگوں کو اسطرح پاک و صاف کریگی جیسے بھٹی لوہے کے میل کو۔ (بخاری و مسلم)
مدینہ کے راستوں پر فرشتے (پہرا دیتے) ہیں۔ اس میں نہ دجال آئے اور نہ طاعون۔ (بخاری و مسلم)

اللہ ہم سب کو شہر نبی کی زیارت کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

مکہ مکرمہ کے تاریخی مقامات

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *