LOADING

Type to search

عمرہ ایک اہم عبادت

Share

عمرہ ایک اہم عبادت ہے جسے ایک مومن شخص اللہ عز وجل سے قریب ہونے، اپنی روح کو پاکیزگی بخشنے اور ان فضائل کے مستحق ہونے کے لئے ادا کرتا ہے جن کی وضاحت نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں کی ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا “ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان گناہوں کا کفارہ ہے جو دونوں عمروں کے درمیان سرزد ہوَئے ہوں اور حج مبرور کا بدلہ تو جنت ہی ہے” بخاری ومسلم۔

عمرہ زندگی میں کسی بھی وقت ادا کیا جا سکتا ہے، مقدس سرزمین کی زیارت کرنے اور ثواب پانے کے لئے وقت اور عمر کی کوئی قید نہیں ہے، ہر مومن شخص کے دل میں یہ تڑپ ہونی چاہیے کہ جب بھی اللہ عز و جل اسے اپنے فضل سے نوازدے وہ اس رب العالمین کے گھر کی زیارت کے لئے نکل پڑے اور خلوص کے ساتھ اس مبارک کام کو انجام دیکر اللہ تعالی کی قربت حاصل کرے۔

یوں تو سال کے کسی بھی ایام میں عمرہ ادا کرنے کی فضیلتیں ہیں لیکن جس طرح ہر عمل کا ثواب رمضان المبارک میں بڑھ جاتا ہے اسی طرح عمرہ ادا کرنے کا ثواب بھی رمضان المبارک میں بڑھ جا تا ہے، نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے “۔۔۔ رمضان کا عمرہ بھی حج کے برابر ہے”

عمرہ کا مفہوم

عمرہ کے معنیٰ لغت میں مطلق ”زیارت”  کے ہیں اورشریعت کی  اصطلاح میں میقات یا حِل سے احرام باندھ کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کو عمرہ کہتے ہیں، عمرہ میں چوں کہ وہی اعمال کئے جاتے ہیں جو حج میں ادا کئے جا تے ہیں اسی لئے اسے حج اصغر بھی کہا جا تا ہے۔

عمرہ ادا کرنے والا شخص میقات (وہ مقام جہاں سے عازمین حج و عمرہ احرام باندھتے ہیں اور جہاں سے عازمین احرام کے بغیر نہیں گزر سکتے) سے احرام باندھ کر ارکان عمرہ کی ادائیگی کا آغاز کرتا ہے اور حلق یا تقصیر کرکے اس مبارک عمل کو مکمل کرتا ہے۔

جب کوئی مومن شخص عمرہ ادا کرکے واپس لوٹتا ہے تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوتا ہے جس طرح وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے دن تھا، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا “جو بیت اللہ شریف کو آئے اور کوئی شہوانی کام اور گناہ نہ کرے تو وہ اس طرح لوٹتا ہے کہ جس طرح ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے دن تھا” (مسلم)

عمرہ کے ارکان

احرام – عازمین میقات سے عمرہ کے لئے احرام میں داخل ہوتے ہیں، مرد کے لئے احرام ایک سفید تہبند باندھنا اور ایک سفید چادر اوڑھنا ہے جبکہ عورتوں کے احرام کے لئے کوئی خاص لباس نہیں ہے۔ احرام کی حالت میں خوشبو استعمال کرنا، ناخن کاٹنا، جسم سے بال دور کرنا، چہرہ کا ڈھانکنا اور شوہر اور بیوی کا جنسی شہوت کا کام کرنا ممنوع ہے۔

طواف – عمرہ ادا کرنے کے دوران کعبہ کے گرد سات چکر لگانے کے عمل کو طواف کہتے ہیں، حجر اسود کے سامنے کھڑے ہوکر بسم اللہ اللہ اکبر کہتے ہوئے حجر اسود کا بوسہ لینے یا دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو حجر اسود کی طرف کرکے ہاتھوں کا بوسہ لینے کے بعد کعبہ کو بائیں طرف رکھ کر طواف شروع کیا جاتا ہے اور سات چکر لگا کر طواف کو مکمل کیا جاتا ہے۔

صفا اور مروہ کے درمیان سعی – صفا اور مروہ دو پہاڑیوں کے نام ہیں جو مکہ میں خانۂ کعبہ کے پاس واقع ہیں، ان دو پہاڑیوں کے درمیان حجاج کرام چکر لگاتے ہیں، اس عمل کو ‘صفا اور مروہ کے درمیان سعی’ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ سعی صفا سے شروع ہوتا ہے اور مروہ پر جانے تک ایک پھیرا مکمل ہوجاتا ہے، اسی طرح سات چکر لگانے ہوتے ہیں، دونوں پہاڑیوں پر پہونچ کر خوب دعا مانگنا چاہیے کیونکہ یہ دعاؤں کے قبول ہونے کا خاص مقام اور خاص وقت ہے۔

حلق یا تقصیر (بالوں کا مونڈنا یا کاٹنا) – طواف اور سعی سے فارغ ہوکر سر کے بال منڈوانا یا کٹوانا بھی ارکان عمرہ میں شامل ہے، مردوں کے لئے بہتر بال منڈوانا ہے جبکہ عورتوں کے لئے صرف چوٹی کے آخر میں سے ایک پورے کے برابر بال کٹوانا مشروع ہے۔

حج اور عمرہ کے درمیان بنیادی فرق کیا ہے؟

اوپر کے سطور میں یہ ذکر کیا گیا کہ عمرہ میں وہی اعمال کئے جاتے ہیں جو حج میں ادا کئے جا تے ہیں اور اسی لئے اسے حج اصغر بھی کہا جا تا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حج اور عمرہ کے درمیان بنیادی فرق کیا ہے، ذیل میں اسی کی تفصیل ہے۔

حج اور عمرہ دو الگ الگ عبادتیں ہیں اور دونوں کے طریقہ کار میں کچھ بنیادی فرق ہے:

– عمرہ کے مقابلہ میں حج کا درجہ بڑا ہے اور زندگی میں ایک مرتبہ صاحب استطاعت پر حج فرض ہے جبکہ عمرہ صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک بار واجب ہے یا یوں کہ لیں کہ ایسی اہم سنت ہے جس کی تاکید وارد ہوئی ہے۔

– حج صرف ذی الحجہ کے مہینہ میں ہی ادا کیا جا سکتا ہے جبکہ عمرہ کسی بھی وقت ادا کیا جا سکتا ہے۔

اسلام کے پانچ ارکان ہیں جس میں سے ایک حج ہے جبکہ عمرہ کو یہ فضیلت حاصل نہیں ہے۔

– عمرہ چند گھنٹوں میں ادا کیا جا سکتا ہے اور ایک ہی دن میں متعدد عمرہ ادا کئے جا سکتے ہیں جبکہ حج ادا کرنے کے لئے ایک متعین مدت ہے۔

– عمرہ ادا کرنے کے والے منی، عرفات، مزدلفہ یا رمی کے لئے نہیں جاتے ہیں اور نہ ہی وہ جانوروں کی قربانی دیتے ہیں کیونکہ یہ سارے اعمال حجاج کرام حج ادا کرنے کے دوران کرتے ہیں۔

آپ اپنا عمرہ مکمل کرنے کے بعد مکہ مکرمہ کے تاریخی مقامات کی زیارت کر سکتے ہیں اور مسجد نبوی کی زیارت اور اس میں نماز ادا کرنے کے لئے مدینہ منورہ بھی جا سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *