LOADING

Type to search

طواف کا مفہوم، تاریخ، طریقہ اور اقسام

Share

طواف حج اور عمرہ کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور یہ اللہ عز و جل کی عبادت کا ایک خاص طریقہ ہے جس سے اللہ تعالی کی محبت کا اظہار ہوتا ہے، مومن ایک عاشق کی طرح خانہ کعبہ کا چکر لگا تا ہے تاکہ وہ رب العالمین کی خوشنودی حاصل کر سکے۔

طواف کا معنی اور مفہوم

طواف عربی لفظ ‘طافَ’ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے ‘کسی شے کے گرد گھومنا اور چکر لگانا’

اصطلاح میں طواف کا مطلب ہے ‘حج یا عمرہ ادا کرنے کے دوران عبادت کی نیت سے اس طرح سے خانۂ کعبہ کے گرد سات چکر لگانا کہ ان کی ابتدا حجرِ اسود سے ہو اور اختتام بھی وہیں پر ہو، ہر ایک مکمل چکر کو عربی میں ‘شوط’ کہا جاتا ہے، طواف کو مکمل کرنے کے لئے سات ‘اشواط’ یعنی سات چکر لگانے ہوتے ہیں۔

طواف کی تاریخ

خانہ کعبہ کا طواف حضرت آدم علیہ السلام سے جاری ہے، تفسیر وغیرہ کی کتابوں میں اس بات کی صراحت ملتی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے بعد دوسرے انبیاء کرام بیت اللہ کا طواف کیا کرتے تھے۔

طواف کا وجود اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں بھی ملتا ہے، مشرکین ننگے بیت اللہ کا طواف کیا کرتے تھے، ان کا ماننا تھا کہ ان کے کپڑے گناہوں کی وجہ سے ناپاک ہوگئے ہیں اسی لئے وہ کپڑوں کے بغیر ہی طواف کیا کرتے تھے۔  قریش ہی وہ واحد قبیلہ تھا جنہوں نے باقاعدہ کپڑوں میں طواف کرنا شروع کیا، دوسرے قبیلے کے لوگوں کو اگر طواف کرنا ہوتا تھا تو وہ قبیلۂ قریش کے کسی شخص سے کپڑے ادھار لے لیتے تھے اور طواف کیا کرتے تھے۔

جب اسلام آیا تو مسلمانوں کو ایک خاص طریقہ سے اچھے کپڑے میں ملبوس ہو کر طواف کرنے کو کہا گیا، اس کا طریقہ بتلایا گیا اور اسے ادا کرتے ہوئے کیسے اللہ سے اپنی جائز خواہشات کا سوال کرنا ہے یہ سب نبی کریم ﷺ نے تفصیل سے بیان کر دیا۔

يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ

طواف کا طریقہ

طواف کا طریقہ جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ طواف کرنے والا شخص پورے طواف کے دوران با وضو رہے، اگر اس دوران وضو ٹوٹ جائے توطواف روک دے اور وضو کرکے اسی جگہ سے شروع کرے جہاں سے بند کیا تھا کیونکہ بغیر وضو کے طواف کرنا جائز نہیں ہے۔ طواف کے لیے بھی نماز کی طرح بدن اور لباس کا پاک ہونا ضروری ہے۔ طواف حیض و نفاس والی عورت اور جنبی شخص پر حرام ہے۔

طواف کے لئے نیت کرنا بھی ضروری ہے۔  طواف کا طریقہ یہ ہے کہ حج یا عمرہ کرنے والا کعبہ شریف کے اس گوشہ کے سامنے آجائے جس میں حجر اسود لگا ہوا ہے اور اس کے سامنے کھڑے ہو کر  بسم اللہ اللہ اکبر کہتے ہوئے حجر اسود کا بوسہ لے یا دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو حجر اسود کی طرف کرکے ہاتھوں کا بوسہ لے اور پھر کعبہ کو بائیں طرف رکھ کر طواف شروع کردے، اسی طرح وہ سات چکر لگائے اور ہر چکر کا آغاز حجرِ اسود سے کرے اور اسی پر اس کا اختتام کرے، آخری چکر کے بعد بھی حجر اسود کا استلام کرے یا دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو حجر اسود کی طرف کرکے ہاتھوں کا بوسہ لے۔ یاد رہے کہ  اس دوران حج یا عمرہ کرنے والا خانۂ کعبہ کو اپنے بائیں طرف رکھے۔

“حجرِ اسماعيل” یا “حطیم” خانۂ کعبہ کا ہی حصہ ہے، اسی لئے اس کے اندر سے گزرنا درست عمل نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے سے طواف کرنا چاہیے۔

اگر طواف کے دوران اس کے چکروں کی تعداد میں شک ہوجائے تو کم تعداد شمار کرکے باقی چکروں کو مکمل کرنا چاہیے۔

اگر اس دوران کوئی نماز کا وقت آجائے تو طواف کو وہیں پر روک دینا چاہیے اور نماز سے فارغ ہو کر اسی جگہ سے طواف شروع کرنا چاہیے جہاں پر اسے روک دیا گیا تھا۔

طواف

طواف میں رمل (یعنی اکڑکر چلنا) صرف مردوں کے لئے ہر اس طواف میں سنت ہے جس کے بعد سعی بین الصفا والمروۃ کرنا ہے، رمل پہلے تین چکروں میں کرنا ہے، باقی چکروں میں عام چال کی طرح چلنا ہے۔ اضطباع یعنی مردوں کے لئے اپنی چادر داہنی طرف سے نکال کرکے بائیں کندھے پر رکھنا اور داہنے کندھے کو کھلا رکھنا بھی سنت ہے۔

حجاج کرام اور معتمرین کو چاہیے کہ وہ طواف کے دوران دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لئے خوب دعا مانگے، رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا ضرور مانگنی چاہیے اور وہ ہے:

(رَبَّنَا ءَاتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)

طواف کی اقسام

طواف کی سات قسمیں ہیں:

1- طواف قدوم: یہ وہ طواف ہے جسے عازمین مسجد الحرام میں پہونچتے ہی ادا کرتے ہیں۔

2 – طواف افاضہ یا طواف زیارت: یہ حج کا رکن ہے، اس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا ہے، دسویں ذی الحجہ کے صبح صادق سے لیکر بارہویں ذی الحجہ کے سورج غروب ہونے تک کی مدت کے دوران کسی بھی وقت اس طواف کو حجاج کرام ادا کرسکتے ہیں۔

3 – طواف واداع: اس کو طواف الصدر بھی کہتے ہیں۔ اسے تب ادا کیا جاتا ہے جب حجاج کرام حج کے سارے اعمال انجام دے دیتے ہیں اور مکہ سے نکلنے کا ارادہ کر لیتے ہیں، حیض و نفاس والی عورتوں کو چھوڑ کر یہ طواف ہر حاجی پر واجب ہے۔

4 – طواف عمرہ: یہ عمرہ کے ارکان میں سے ایک رکن ہے جس کے بغیر عمرہ درست نہیں ہوتا ہے۔

5 – طواف نذر: اگر کوئی طواف کرنے کی منت مان لے تو اس پر یہ واجب ہوجاتا ہے۔

6 – طواف تحیہ: یہ مسجد حرام میں داخل ہونے والے کے لئے مستحب ہے، اگر وہ طواف نہیں کرے تو دو رکعت نماز تحیۃ المسجد کی نیت سے پڑھے۔

7 – طواف نفل: اسے ادا کرنے کے لئے کوئی خاص وقت یا موقع متعین نہیں ہے بلکہ جس وقت جی چاہے اسے ادا کیا جا سکتا ہے۔

طواف کے دوران کیا پڑھنا چاہیے؟

طواف کے دوران خوب دعا مانگنی چاہیے، اس موقع سے دعا کے لئے کوئی خاص لفظ وارد نہیں ہے بلکہ جو دل چاہے رب کریم سے اس کا سوال کرنا چاہیے، یاد رکھیں یہ ان جگہوں میں سے ایک ہے جہاں دعا قبول ہوتی ہے، اس لئے اس سنہرے موقع کو ہاتھ سے جانے دینا بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔

طواف کی فضیلت

یت اللہ کا طواف عظیم عبادات میں شامل ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے (وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ)، طواف کی فضیلت سے متعلق احادیث مبارکہ ملتی ہیں جن میں سے چند کا ذکر ذیل کے سطور میں ہم کر رہے ہیں:

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جس نے 50 دفعہ طواف کیا وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل گیا جیسے اس کی ماں نے اس کو ابھی جنا ہو۔

عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مزید روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ “جو شخص طواف کے سات چکر دھیان سے مکمل  کرے اور دو رکعت ادا کرے تو یہ اس کے لئے ایک گردن آزاد کرنے کے برابر ہو گا”

انہی سے یہ بھی روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا “کوئی بھی شخص طواف کرتے ہوئے ایک قدم اٹھائے اور پھر اسے نیچے رکھے تو اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، دس گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں اور دس درجات بلند کر دئے جاتے ہیں۔

عمرہ سے متعلق مزید پڑھیے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *