LOADING

Type to search

سعی کی تاریخ، ادا کرنے کا طریقہ اور اہمیت

Share

سعی عمرہ کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے، اللہ عز و جل نے قرآن کرم میں اس کے متعلق ارشاد فرمایا ہے “إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ” بے شک صفا و مروہ اللہ کے مقرر کردہ نشانات ہیں۔ حجاج کرام اور معتمرین اللہ کو پکارتے ہوئے، دعا کرتے ہوئے اور اس کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا کا چکر لگاتے ہیں۔ یقینا یہ عمل جو ہمیں سیدہ ہاجر علیہا السلام کی جدّوجہد کی یاد  بھی دلاتا ہے، ایک خوشنما روحانی منظر پیش کرتا ہے۔

سعی کا طریقہ کیا ہے؟ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے کا کیا مفہوم ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے؟ اس مضمون میں ہم نے سعی سے متعلق وہ تمام معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے جسے آپ جاننا چاہتے ہیں۔

سعی کا مفہوم

سعی عربی زبان کا لفظ ہے، لغت میں اسکے متعدد معانی ملتے ہیں جیسے جد وجہد کرنا، کوشش کرنا، چلنا وغیرہ۔ یہ حج اور عمرہ کے ارکان میں سے ایک لازمی رکن ہے جسے طواف کے بعد ادا کیا جاتا ہے۔ اس لفظ کا استعمال جب حج اور عمرہ کے سیاق میں ہوتا ہے تو اسکا مفہوم ہوتا ہے ‘خانۂ کعبہ سے متصل دو پہاڑیوں، صفا و مروہ کے درمیان اس طریقہ سے چکر لگانا جس طرح قرآن و حدیث میں حکم دیا گیا ہے’۔

صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تاریخ

مؤرخین کا اس بات پر اتّفاق ہے کہ صفا اور مروہ کی تاریخ تقریبا پانچ ہزار برس پرانی ہے، خلیل اللہ حضرت ابراھیم عیلہ السلام نے جب اللہ تعالی سے دعا کی:

رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ

(اے میرے پروردگار! مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما)

تو اللہ تعالی نے اپنے خلیل کو سیدہ ہاجر علیہا السلام کے بطن سے ایک فرزند ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا کیا۔

حضرت ابراھیم علیہ السلام کو اللہ عز و جل نے متعدد مرتبہ آزمائش میں ڈالا جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ

(اور جب ابراھیم عیلہ السلام کو ان کے رب نے چند باتوں کے ذریعہ آزمایا، تو انہوں نے سب کو پورا کر دکھلایا)

انہی آزمائشوں میں سے ایک آزمائش یہ تھی کہ اللہ تعالی نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کو حضرت اسماعیل عیلہ السلام کی ولادت کے بعد یہ حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی اور نوزائیدہ بچہ کو بے آب و گیاہ وادی کی طرف لے جائیں اور انہیں وہیں چھوڑ کر توحید کی تبلیغ کے لئے نکل جائیں۔

سیدہ ہاجر علیہا السلام شروع میں گھبرا گئی، بے آب و گیاہ وادی، دور دور تک کسی کا نام و نشان نہیں، کھانے اور پینے کے لئے بہت مختصر سا سامان اور سب سے بڑھ کر گود میں نوزائیدہ لاڈلا، گھبرانا فطری بات تھی لیکن قربان جائیے اس کامل یقین پر کہ جب حضرت ہاجر علیہا السلام کو معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا حکم کا ہے تو ان کی زبان سے یہ جاری ہوا کہ تب وہ ہمیں ضائع نہیں کریگا۔

قرآن مقدس میں اس واقعہ کو یوں بیان کیا گیا ہے:

رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُون

(اے میرے پروردگار! میں نے اپنی ذریت کو اس بے کھیتی کے وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسائی ہے۔ اے ہمارے پروردگار! یہ اس لئے کہ وہ نماز قائم رکھیں، پس تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے اور انہیں پھلوں کی روزیاں عنایت فرما تاکہ یہ شکر گزاری کریں)

کچھ ہی مدت گزری تھی کہ سیدہ ہاجر علیہا السلام کے پاس جو پانی جمع تھا وہ ختم ہوگیا، بھوک پیاس کی شدت اتنی بڑھ گئی کہ وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلانے کے قابل بھی نہیں رہیں، ادھر گود میں موجود اللہ کے نبی حضرت اسماعیل علیہ السلام بھوک سے رونے لگے، اپنے لخت جگر کو بھوک سے روتا بلکتا ہوا دیکھ کر ماں کا کلیجہ منھ کو آگیا، پانی کی تلاش میں کبھی وہ صفا پر چڑھ جاتیں کہ شاید کوئی مسافر آتا ہوا نظر آجائے اور وہ اس سے پانی مانگ لیں، نور نظر کی محبت میں واپس ان کے پاس لوٹ آتیں، پھر انہیں بھوک سے بلکتا دیکھ کر وہ مروہ پر چڑھ جاتیں کہ شاید ادھر سے کوئی آتا ہوا نظر آجائے، جب کوئی نظر نہیں آتا تو لخت جگر کے پاس واپس آجاتیں۔

اسی طرح سیدہ ہاجر علیہا السلام صفا اور مروہ کے درمیان اللہ تعالی سے امید باندھے ہوئے پانی کی تلاش میں سات مرتبہ چکر لگائیں، رب العالمین کو یہ عمل اتنا پسند آگیا کہ اسے حج اور عمرہ کے ارکان میں سے ایک رکن بنادیا جسے حجاج کرام اور معتمرین رہتی دنیا تک ادا کرتے رہیں گے۔

الغرض جس جگہ حضرت اسماعیل علیہ السلام پیاس کی شدت کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رہے تھے وہاں سے اللہ تعالی نے ایک چشمہ جاری کردیا، یہ دیکھ کر سیدہ ہاجر علیہا السلام اللہ کا شکر بجا لائیں اور پانی پی کر سیراب ہوگئیں پھر انہیں دودھ بھی اتر آیا جسے اسماعیل علیہ السلام نے نوش فرمایا۔ اسی درمیان حضرت جبرئیل عیلہ السلام بھی ایک خوشخبری لے کر تشریف لے آئے، انہوں نے کہا کہ اسی مقام پر اللہ کا گھر تعمیر ہوگا جس میں یہ آپ کا نوزائیدہ لخت جگر، اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اپنے والد کا ہاتھ بٹائیں گے۔ جہاں پر پانی کا چشمہ پھوٹا تھا آج وہ ‘زم زم کا کنواں’ کے نام سے مشہور ہے اور غور و فکر کرنے والوں کے لئے معجزات میں سے ایک اہم معجزہ ہے۔

کچھ دنوں بعد مسافروں کی ایک جماعت پانی کی تلاش میں ادھر نکل آئی، انہوں نے دیکھا کہ اس بیاباں صحرا میں کچھ پرندے ایک جگہ جمع ہورے ہیں اور انہیں خیال آیا کہ ضرور اس جگہ پانی موجود ہوگا۔ چنانچہ جب وہ وہاں پہونچے اور زمزم کے کنواں کو دیکھے تو انہوں نے سیدہ ہاجر عیلہا السلام سے پانی پینے کی اجازت مانگی جو انہیں مل گئی۔ پھر وہاں ایک قبیلہ جس کا نام جرہم تھا آباد ہوگیا۔ دھیرے دھیرے یہ ایک عالیشان اور مقدس شہر میں تبدیل ہوگیا جو آج مکہ مکرمہ کے نام شے مشہور ہے۔

سعی کے واقعہ کی ہماری زندگی میں اہمیت

سیدہ ہاجر علیہا السلام بے کھیتی کے وادی میں اپنے نوزائیدہ لخت جگر کے ساتھ اس حالت کو پہونچ گئیں کہ جہاں زندہ رہنے کی تمام امیدیں ختم ہوجاتی ہیں لیکن ایک اللہ پر بھروسہ اور امید کا ایسا پختہ رشتہ تھا جو ٹوٹا نہیں بلکہ انہیں کامل یقین تھا کہ وہی ذات واحد اسے اور اسکے بیٹے کو اس مشکل گھڑی میں بچا سکتا ہے۔

اس واقعہ سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لئے پہلے اپنی بساط بھر کوشش کریں اور پھر اللہ رب العالمین پر مکمل بھروسہ کریں۔

سعی ادا کرنے کا آسان طریقہ

طواف مکمل کرنے کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا ہے، اس پر امت کا اجماع ہے۔ سعی کرنے والے پہلے صفا کی طرف آجائیں اور قریب آکر قرآن کریم کی آیت:

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّـهِ

کی تلاوت کریں، پھر صفا پر چڑھ جائیں اور خانۂ کعبہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو کر دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک آسمان کی طرف اس طرح اٹھائیں جس طرح دعا میں ہاتھ اٹھاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرتے ہوئے تین مرتبہ اللہ اکبر پڑھیں اور پھر یہ دعا پڑھیں:

لاَ إِلَهَ إلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَشَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِيْ وَيُمِيْتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَي ءٍ قَدِيْرٌ. لاَ إِلَهَ إلاَّ الله وَحْدَهُ أَنْجَزَوَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَ حْزَابَ وَحْدَهُ

اس کے بعد خوب من لگا کر دعا کریں کیونکہ یہ دعا کے قبول ہونے کا مواقع میں سے ایک موقع ہے، اب صفا سے مروہ کی طرف یہ دعا پڑھتے ہوئے چلیں:

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ

صفا سے مروہ کی طرف جاتے ہوئے تھوڑے فاصلے پر سعی کے راستے میں دو سبز ستون ہیں جن کے درمیان کچھ فاصلہ ہے۔ جب سبز ستونوں کے قریب پہنچیں تو ان کے درمیان مرد حضرات متوسط طریقہ سے دوڑ کر چلیں لیکن خواتین کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ نہ دوڑیں بلکہ اپنی عام چال میں چلیں۔

سبز ستونوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے “رب اغفر وارحم إنك أنت الأعز الأكرم” پڑھنا مسنون ہے۔

سبز ستونوں سے گزر جانے کے بعد عام چال سے چل کر مروہ پر چڑھ جائیں اور بیت اللہ کی طرف رخ کرکے دعا بالکل اسی طرح کریں جس طرح صفا پر کیے تھے. جب آپ صفا سے سعی کا آغاز کرکے مروہ پہنچ گئے تو آپ کا ایک چکر مکمل ہوگیا، اب جب آپ مروہ سے صفا جائیں گے تو دوسرا چکر مکمل ہو جائیگا۔ اسی طرح سات چکر لگانا ہے۔

مردوں کو چاہیے کہ وہ سعی کے درمیان اپنا کندھا کھلا نہ چھوڑیں بلکہ اسے ڈھک لیں۔

اگر آپ کو سعی کے چکروں کی تعداد میں شک ہوجائے تو آپ اس تعداد کا اعتبار کریں جو نسبتا کم ہو اور باقی چکروں کو مکمل کریں۔ سعی کرتے ہوئے بات کرنا جائز تو ہے لیکن صرف ضروری بات کرنا، خیال رہے کہ آپ اہم رکن کو ادا کررہے ہیں اور یہ وہ مقام ہے جہاں دعا قبول ہوتی ہے اسی لئے اس بیش قیمتی وقت کو غنیمت جانیں اور اپنی پوری توجہ اللہ رب العالمین کی طرف کرکے خوب دعائیں مانگیں۔ سعی کرتے وقت آواز بلند نہ کریں۔ الوداعی طواف کے بعد کوِئی سعی نہیں ہے۔

عمرہ می کی پوری ٹیم دعا گو ہے کہ اللہ تعالی آپ کے حج، عمرہ اور تمام نیک اعمال کو قبول فرمالے۔ آمین۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *