LOADING

Type to search

خواتین کے لئے عمرہ ادا کرنے کا طریقہ

Share

عمرہ زندگی میں ایک مرتبہ مردوں کی طرح ان عورتوں پر بھی واجب ہے جو مالی اور جسمانی استطاعت رکھتی ہیں، اور اس کے بعد مسنون ہے، لہذا خواتین کے لئے عمرہ ادا کرنے کا طریقہ جاننا ضروری ہے تاکہ وہ آسانی سے اس نیک کام کو انجام دے سکیں اور رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کے جو فضائل بیان کئے ہیں ان کے مستحق بن سکیں۔

عمرہ ادا کرنے سے انسان اللہ سے قریب ہوتا ہے، اس کے گناہ مٹ جاتے ہیں اور وہ جو بھی دعا کرتا ہے اللہ عز وجل اسے قبول فرما لیتا ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے “ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان گناہوں کا کفارہ ہے جو دونوں عمروں کے درمیان سرزد ہوَئے ہوں اور حج مبرور کا بدلہ تو جنت ہی ہے” بخاری ومسلم۔

عمرہ جیسے روحانی سفر پر جانے اور عمرہ ادا کرکے فضائل کے مستحق ہونے میں خواتین بھی برابر کی شریک ہیں، اسی لئے ذیل میں خواتین کے لئے عمرہ ادا کرنے کا طریقہ بیان کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں اس کی ادائیگی میں کسی طرح کی کوئی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

– خواتین عمرہ کے مبارک سفر پر تنہا نہیں جا سکتی ہیں، ان کے ساتھ محرم کا ہونا لازمی ہے، محرم میں شوہر، بیٹا جس کی عمر 15 سال سے زیادہ ہو اور وہ تمام رشتہ دار شامل ہیں جن سے عورت پوری زندگی نکاح نہیں کر سکتی ہے۔ تاہم فقہاء کرام نے استنباط کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ وہ خواتین جن کی عمر 45 سال سے زیادہ ہو وہ ایک گروپ بنا کر عمرہ کے سفر پر جا سکتی ہیں۔

– وہ عورتیں جو طلاق کے بعد یا شوہر کے انتقال کے بعد عدت گزار رہی ہوں وہ اپنی عدت پوری کرنے کے بعد ہی عمرہ کرنے کے لئے جا سکتی ہیں۔

– موجودہ حالات کے پیش نظر عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے سعودی وزارت حج و عمرہ کے گائیڈ لائنس کے مطابق حفاظتی ٹیکوں کے دونوں خوراک لینا ضروری ہے۔

استطاعت، محرم، ویکسینیشن اور دیگر شرائط پورے ہونے کے بعد خواتین حکومت سے منظور شدہ کسی عمرہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنی جیسے عمرہ می وغیرہ سے ویزا، ہوٹل اور آمد و رفت کی خدمات حاصل کر کے عمرہ کے سفر پر روانہ ہو سکتی ہیں۔

عمرہ کے ارکان کا بیان خواتین کے حوالہ سے

1۔ احرام:

احرام باندھنے سے پہلے طہارت اور پاکیزگی کا خاص خیال رکھنا چاہیے جیسے ناخن کاٹنا اور سنت کے مطابق غسل کرنا وغیرہ، عورتوں کے احرام کے لئے کوئی خاص لباس نہیں ہے، بس غسل وغیرہ سے فارغ ہوکرعام لباس پہن لیں اور چہرہ سے کپڑا ہٹالیں، لیکن اس حالت میں بھی اجنبیوں سے پردہ کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے، اس کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ ایسا نقاب لٹکا لے جو چہرہ کو نہ چھوئے۔

خواتین اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ جو کپڑا وہ پہن رہی ہیں وہ بدن سے بالکل چپکا ہوا نہ ہو بلکہ ڈھیلا ہو اور بدن کا کوئی عضو نمایاں نہ ہو، اسی طرح بالکل باریک کپڑا نہ ہو، خیال رہے کہ آپ ارض مقدس کی طرف ایک اہم عبادت کے لئے جارہے ہیں لہذا کوئی ایسی بھول نہ ہو جائے جس سے اسلام میں منع کیا گیا ہے۔

جو عورتیں حالت حیض و نفاس میں ہوں وہ بھی غسل کرکے احرام باندھ سکتی ہیں اور عمرہ ادا کر سکتی ہیں سوائے طواف کعبہ کے، طواف اس وقت تک نہ کریں جب تک کہ پاک نہ ہو جائیں۔

احرام باندھنے کے بعد دو رکعت نفل نماز ادا کرنا مستحب ہے۔ حرم شریف میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں آگے کرتے ہوئے یہ دعا پڑھنی چاہیے “أعوذ بالله العظيم، وبوجهه الكريم، وسلطانه القديم من الشيطان الرجيم، بسم الله، والصلاة والسلام على رسول الله، اللهم اغفر لي ذنوبي، وافتح لي أبواب رحمتك”

2 ۔ طواف:

مسجد حرام میں داخل ہونے اور دعا پڑھنے کے بعد کعبہ شریف کے اس گوشہ کے سامنے آجائیں جس میں حجر اسود لگا ہوا ہے اور طواف کی نیت کرلیں۔ پھر حجر اسود کے سامنے کھڑے ہوکر بسم اللہ اللہ اکبر کہتے ہوئے حجر اسود کا بوسہ لیں یا دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو حجر اسود کی طرف کرکے ہاتھوں کا بوسہ لیں اور پھر کعبہ کو بائیں طرف رکھ کر طواف شروع کردیں۔

یاد رکھیں کہ خواتین کے لئے طواف میں رمل (یعنی اکڑکر چلنا) نہیں ہے، یہ صرف مردوں کے لئے خاص ہے۔

طواف کے دوران دعا کریں اور اللہ سے مغفرت طلب کریں، اس دوران دعا کے لئے کوئی خاص لفظ وارد نہیں ہے بلکہ جو دل چاہے اپنے رب کریم سے مانگ لیں۔

کل سات چکر کرنا ہوتا ہے، آخری چکر کے بعد بھی حجر اسود کا استلام کریں یا دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو حجر اسود کی طرف کرکے ہاتھوں کا بوسہ لیں۔ اگر طواف کے چکروں کی تعداد میں شک ہوجائے تو کم تعداد شمار کرکے باقی چکروں کو مکمل کرکے طواف کرلیں۔

اگر طواف کے دوران وضو ٹوٹ جائے توطواف روک دیں اور وضو کرکے اسی جگہ سے طواف شروع کردیں جہاں سے طواف بند کیا تھا کیونکہ بغیر وضو کے طواف کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر کسی عورت کو طواف کے دوران حیض آجائے تو فوراً طواف بند کردے اور مسجد سے باہر چلی جائے اور پاکی حاصل ہونے کے بعد طواف مکمل کرے۔

3 ۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی:

صفا اور مروہ پہاڑوں کے درمیان سعی طواف کرنے کے بعد کیا جاتا ہے، یہ سعی صفا سے شروع ہوتا ہے، وہاں پہونچ کر خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے خوب دعائیں مانگنی چاہیے کیونکہ یہ دعاؤں کے قبول ہونے کا خاص مقام اور خاص وقت ہے، دعاؤں سے فارغ ہوکر نیچے اترکر مروہ کی طرف جانا ہوتا ہے۔

خواتین سعی میں سبز ستونوں (جہاں ہری ٹیوب لائٹیں لگی ہوئی ہیں) کے درمیان مردوں کی طرح دوڑکر نہ چلیں، مروہ پر پہونچ کرقبلہ کی طرف رخ کرکے ہاتھ اٹھاکر دعائیں مانگیں، یہ سعی کا ایک پھیرا ہوگیا۔ اسی طرح مروہ سے صفا کی طرف چلیں، یہ دوسرا چکر ہوجائے گا۔ اس طرح آخری وساتواں چکر مروہ پر ختم ہوگا۔ ہر مرتبہ صفا اور مروہ پر پہونچ کر خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے دعائیں کرنی چاہیے۔

4 ۔ تقصیر (بال کٹوانا صرف خواتین کے حوالے سے) :

طواف اور سعی سے فارغ ہوکر خواتین چوٹی کے آخر میں سے ایک پورے کے برابر بال خود کاٹ لیں یا کسی محرم سے کٹوالیں۔

مبارک ہو، اب آپ کا عمرہ مکمل ہو گیا اور آپ کے لئے وہ سب چیزیں جائز ہوگئیں جو احرام کی وجہ سے ناجائز ہوگئی تھیں۔

مزید پڑھیے عمرہ گائیڈ- عمرہ ادا کرنے کے لئے سفر پر جانے، عمرہ ادا کرنے اور واپس آنے کے آداب

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Up