LOADING

Type to search

حضرت محمد ﷺ کا الوداعی حج امت مسلمہ کے لئے ایک اہم پیغام

Share

حضرت محمد ﷺ کا الوداعی حج امت مسلمہ کے لئے ایک اہم پیغام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اسے سیکھیں اور اس پر عمل کریں۔

حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے جو صاحب استطاعت مسلمانوں پر پوری زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ حج کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابو ہریرہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جس نے حج کیا اور فسق و فحش کلامی سے بچا تو وہ ایسا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا”۔

صحیح بخاری میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عمرہ کرنا دوسرے عمرہ تک گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور مقبول حج کا بدلہ سوائے جنت کے کچھ نہیں”

خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن 10 ہجری میں حج کیا جو حجۃ الودع کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس موقع پر صحابہ کرام لاکھوں کی تعداد میں موجود تھے۔

8 ذی الحجہ جمعرات کو چاشت کے وقت ابطح سے آپ ﷺ نے حج کے لیے احرام باندھا اور منیٰ تشریف لے گئے۔

صحابہ کرام بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ سبھی نے دن اور رات یہیں گزاری۔ 9 ذی الحجہ بروز جمعہ بعد نماز فجرعرفات تشریف لائے اور مقام نمرہ پر اپنے خیمے میں زوال تک آرام فرمایا۔ پھر زوال کے بعد اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور میدان عرفہ آئے اور ایک طویل اور تاریخی خطبہ دیا جسے سن کر صحابہ کرام کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں.

“میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ۔ اگر تم نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو کبھی گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہیں.. کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ”۔

حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ کے ذریعہ دیے گئے خطبے کا ترجمہ

حمد و صلاۃ کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! میری باتیں سن لو! مجھے کچھ خبر نہیں کہ میں تم سے اس قیام گاہ میں اس سال کے بعد پھر کبھی ملاقات کر سکوں۔
ہاں جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں؛ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے ۔

لوگو! تمہارا خون تمہارا مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسا کہ آج کے دن کی، اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت ہے۔ دیکھو عنقریب تمہیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال فرمائے گا۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ ہونا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہو۔ یاد رکھو تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں.
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ۔ اگر تم نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو کبھی گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہیں.. کتاب اللہ اور سنت رسو۔
خطبہ سے فارغ ہوئے تو جبرئیل امین وہیں تکمیل دین اور اتمام نعمت کا پیغام لے کر آئے اور یہ آیت اتری .. آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تجھ پر اپنی نعمتیں پوری کر دی اور آپ کے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا.

اس جامع خطبہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
لوگو! قیامت کے دن خدا میری نسبت پوچھے گا تو کیا جواب دو گے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم کہیں گے کہ آپ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔

آپ ﷺ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور فرمایا۔’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘۔ ’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘ اے خدا تو گواہ رہنا اور اس کے بعد آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو یہ باتیں پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں۔

مزید پڑھیے عمرہ ادا کرنے کے لئے سفر پر جانے، عمرہ ادا کرنے اور واپس آنے کے آداب

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *