LOADING

Type to search

حج کی تاریخی حیثیت

Share

حج اسلام کا اہم ترین رکن اور دینی فریضوں میں سے ایک عظیم فریضہ ہے۔ یہ اسلام کا وہ اہم رکن ہے جس میں عبادات کے تمام اقسام ایک ساتھ ادا کئے جاتے ہیں۔ تمام حجاج کرام ایک طرح کے سفید کپڑے یعنی احرام میں ملبوس ہوکر حج کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ سب کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اللہ تعالی ان کے گناہوں کو معاف کردے اور انہیں اپنی قربت کی سعادت مرحمت فرمائے۔

حدیث شریف میں آتا ہے کہ حج کر کے حجاج کرام اپنے گناہوں سے پاک ہوکر گھر ایسے ہی لوٹتے ہیں جیسے کہ وہ آج ہی پیدا ہوئے ہوں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو  مختلف طبقات، حیثیت اور ثقافت کو مٹا دیتا ہے۔ سب اللہ کے سامنے ایک ہی لباس میں ایک ساتھ ایک ہی دعاء کو پکار رہے ہوتے ہیں۔

تاریخی طور پر پہلا حاجی کون تھا؟

حج کی ابتدا تقریبا 2000 سال قبل مسیح میں ہوئی- جب حضرت ابراہیم علیہ السلام  اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ سیدہ ہاجر کو مکہ مکرمہ کے صحرا میں تنہا چھوڑ آئے اور جب صفا اور مروہ کا واقعہ پیش آیا تو اسی درمیان حضرت جبرئیل علیہ السلام زمین پر اتر ے اور خوشخبری سنائی کہ اسی جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ اللہ کے گھر کی تعمیر کریں گے، قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

اللہ عز و جل کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے لاڈلے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ کے گھر کی تعمیر کی اور حج کیا۔

اسلام  سے قبل حج کی تاریخی حیثیت

اسلام سے قبل مکہ کے لوگ حج کیا کرتے تھے، عرب ممالک سے بھی لوگ ذوالحجہ کے مہینے میں خانہ کعبہ کا حج کرنے آیا کرتے تھے۔ ذوالحجہ کے علاوہ ذوالقعدہ، محرم الحرام اور رجب کے مہینے مقدس سمجھے جاتے تھے اور ان مہینوں میں لوگ لڑائی سے دور رہا کرتے تھے۔

خانہ کعبہ مکہ کے لوگوں کے لئے معاش کا ذریعہ تھا یہی وجہ ہے کہ وہ ہر قبیلہ کے بتوں کو مکہ مکرمہ میں رکھنے پر خاص توجہ دیا کرتے تھے تاکہ ہر قبیلہ کے لوگ خانہ کعبہ کی طرف آیا کریں اور ان کے معاش کا مسئلہ آسانی سے حل ہوتا رہے۔ اسلام سے پہلے حج کی رسومات بیہودہ اور غیر منظم انداز میں انجام دیے جاتے تھے، کچھ لوگ تو خانہ کعبہ کا ننگے طواف کیا کرتے تھے۔ الغرض حج کا فریضہ ان کے لئے ایک معاش کا ذریعہ تھا اور وہ لوگ اسے بے ہودہ اور غیر منظم انداز میں ادا کیا کرتے تھے۔

اسلام میں حج  کی اہمیت

حج اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ ہر اس عاقل اور بالغ مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ حج ادا کرنا فرض ہے جسے اللہ نے استطاعت دے رکھی ہے۔ ہجرت کے نویں سال حج فرض ہوا اور پیارے نبی ﷺ نے سن 10 ہجری میں واحد حج ادا کیا جسے حجۃ الوداع کے نام سے جانا جاتا ہے۔ گر چہ حج ہجرت کے نویں میں سال فرض ہوا لیکن ہجرت کے چھٹے سال سے ہی اس کی فرضیت کے لئے راہِیں ہموار ہونے لگی تھیں۔

آپ ﷺ نے خواب دیکھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے یوں کھینچا ہے:

لَّقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ ۖ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ

جب آپ ﷺ کو نبوت سے سرفراز کیا گیا اور آپ ﷺ نے دین کی دعوت دینے کا آغاز کیا تو کفر مکہ آپ ﷺ اور ان کے مسلمان ساتھیوں کے جان کے دشمن ہوگئے۔ نبوت ملنے کے بعد تیرہ سال تک آپ ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ میں ہی تشریف فرما رہے۔ پھر اللہ کے حکم سے تمام مسلمان ہجرت کر گئے اور صرف دین اسلام کے لئے اپنا گھر اور مال چھوڑ کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ بھی اسی شہر تشریف لے آئے۔ ہجرت کے بعد چھ سال تک مسلمانان کرام اسلام کی دعوت میں لگے رہے اور کفارو مشرکین کی خطرناک سازشوں کے بعد بھی اسلام پر ڈٹے رہے۔

ہجرت کے ساتویں سال آپ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور عمرہ کرکے واپس تشریف لے گئے۔ ہجرت کے آٹھویں سال مکہ مکرمہ فتح ہوا۔ آپ ﷺ اپنے دس ہزار صحابہ کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور خانۂ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:

وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقا

ہجرت کے نویں سال، خلیفۂ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کی طرف سے مکہ مکرمہ میں امیر الحج بنا کر بھیجا گیا اور اسی سال یہ اعلان کیا گیا کہ اب کسی مشرک کو خانہ کعبہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی برہنہ طواف کرے گا۔ اسی سال حج بھی فرض ہوا۔ ہجرت کے دسویں سال آپ ﷺ نے اپنی پیاری زندگی کا آخری حج ادا کیا جسے ہم حجۃ الوداع کے نام سے جانتے ہیں۔

حج اسلام کے ارکان میں سے ایک ایسا اہم رکن ہے جسے ادا کرنے کے بعد انسان گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتاہے جیسے وہ ماں کی گود سے جنم لیتا ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم تمام مسلمانوں کو حج مبرور کی سعادت سے نوازے۔ آمین۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *